صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۶ - اس دن پیدا لوگوں کی عمر

کوئی شخص سو برس تک نہ جئے گا: حدیث کا صحیح مطلب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۶

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ " ، فَقَالَ سَالِمٌ : تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ ، إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص سو برس تک نہ جئے گا۔“ سالم نے کہا: ہم نے اس کا ذکر کیا جابر رضی اللہ عنہ کے سامنے، مراد وہ شخص ہے جو اس دن پیدا ہو چکا تھا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی جان سو سال تک نہ پہنچے گی۔ پھر سالم نے وضاحت کی کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اس دن پیدا ہو چکا تھا، یعنی جب یہ حدیث بیان ہوئی۔ یہ وضاحت بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا مطلب ہر زمانے کے ہر انسان کے بارے میں نہیں، بلکہ اسی وقت موجود لوگوں کے بارے میں ہے۔ اس لیے سو سال والی حدیث کو عام عمر کی حد یا قیامت کی تاریخ کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان کی زندگی محدود ہے اور اللہ کا علم کامل ہے۔ عمر کی حد، سو سال والی حدیث، اور قیامت کا علم جیسے موضوعات میں یہ روایت خاص وضاحت دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں مراد اس دن موجود یا پیدا شدہ لوگ تھے۔
  • راوی کی وضاحت حدیث کے مفہوم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
  • اس حدیث کو ہر زمانے کی عمر کے لیے عام حکم نہیں بنانا چاہیے۔
  • انسان کو محدود عمر کا احساس رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں