صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۳ - موجودہ نسل کی عمر کا بیان
سو سال والی حدیث: موجودہ نسل کی عمر کا آسان مطلب
صحیح مسلم : ۶۴۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۳
حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى كلاهما ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ " . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ، وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : نَقْصُ الْعُمُرِ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک مہینہ پہلے یا کچھ ایسا ہی فرمایا: ”جو جان آج کے دن ہے اس پر سو برس نہ گزریں گے کہ وہ مر جائیں گے۔“ عبدالرحمن نے اس کی تفسیر یہ کی کہ عمریں کم ہو جائیں گی (ورنہ اگلے لوگ سو برس سے زیادہ بھی جیتے تھے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جان اس دن موجود ہے، اس پر سو سال نہیں گزریں گے کہ وہ زندہ رہے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ عبدالرحمن نے اس کی تفسیر عمر کی کمی سے کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بات قیامت کے وقت کی نہیں، بلکہ اس دن زندہ موجود لوگوں کی عمر سے متعلق ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی تاریخ نہیں بتائی، بلکہ ایک خاص وقت کے زندہ لوگوں کے بارے میں بات فرمائی۔ سو سال والی حدیث، عمر کی کمی، اور قیامت کا علم جیسے موضوعات میں یہ روایت لوگوں کی عام غلط فہمی دور کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بات اس دن موجود لوگوں کے بارے میں تھی۔
- قیامت کی تاریخ اس روایت میں بیان نہیں ہوئی۔
- عمر کا کم ہونا انسان کو آخرت کی تیاری یاد دلاتا ہے۔
- حدیث کی تفسیر میں صحابہ اور راویوں کی وضاحت بھی مدد دیتی ہے۔
