صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۱ - قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے: اہم حدیث کا آسان مطلب
صحیح مسلم : ۶۴۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۱
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ : " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے ایک مہینہ پہلے فرماتے تھے: ”تم مجھ سے قیامت کو پوچھتے ہو قیامت کا علم تو اللہ کو ہے اور میں قسم کھاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی کہ کوئی جان نہیں (یعنی آدمیوں میں سے) جس پر سو برس تمام ہوں (آج کی تاریخ سے اور وہ زندہ رہے)۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بتایا کہ اس وقت زمین پر جو جان دار انسان موجود ہیں، ان پر سو سال پورے نہیں گزریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات قیامت کے دن کی تعیین نہیں، بلکہ اس زمانے کے موجود لوگوں کی عمر سے متعلق ہے۔ اس لیے اس حدیث کو قیامت کی تاریخ بتانے والی حدیث نہیں سمجھنا چاہیے۔ قیامت کا علم، قیامت کی نشانی، اور عمر کی حقیقت جیسے موضوعات میں یہ حدیث بہت اہم ہے۔ یہ انسان کو اپنی محدود زندگی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کا اصل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
- انسان کو اپنی عمر محدود سمجھ کر زندگی گزارنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کا وقت مقرر نہیں بتایا۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی معنی میں سمجھنا چاہیے جو متن سے ظاہر ہو۔
