صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۵ - تبوک کے بعد قیامت کا سوال

تبوک کے بعد قیامت کا سوال: سو سال والی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۵

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ " .

ابوسعید روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قیامت کے متعلق۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو برس گزرنے پر اس وقت کا کوئی شخص زندہ نہ رہے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا۔ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سو سال گزرنے پر اس وقت کا کوئی شخص زندہ نہ رہے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جواب میں قیامت کا وقت مقرر نہیں کیا گیا، بلکہ اس وقت موجود لوگوں کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ بعض لوگ سو سال والی حدیث کو قیامت کے دن سے جوڑ دیتے ہیں۔ اصل مضمون یہ ہے کہ قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے، اور انسان کی عمر محدود ہے۔ یہی اس حدیث کا آسان اور محتاط مطلب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے سوال کا جواب انسان کی محدود عمر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
  • اس حدیث میں قیامت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
  • تبوک سے واپسی کا ذکر روایت کے واقعہ کو واضح کرتا ہے۔
  • حدیث کا مطلب اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن بتاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں