صحیح مسلم حدیث ۶۵۱ - برتن کی پاکی اور مٹی کا استعمال
کتے کے جھوٹے برتن کو مٹی سے دھونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۱
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ ، أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے برتن کی پاکی جب کتا اس میں منہ ڈال کر پئیے یہ ہے کہ اسے سات بار دھوئیں پہلی بار مٹی سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی، جب کتا اس میں منہ ڈال دے، یہ ہے کہ اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی سے۔ یہ روایت کتے کے جھوٹے برتن کے حکم کو مزید واضح کرتی ہے۔ پہلے والی روایات میں سات بار دھونے کا ذکر تھا، یہاں پہلی بار مٹی کے استعمال کی بات بھی آئی ہے۔ حدیث کا مرکز برتن کی پاکی ہے، اس لیے اس سے یہی سمجھنا چاہیے کہ اس خاص صورت میں برتن کو عام دھلائی سے الگ طریقے پر صاف کیا جائے۔ متن کے مطابق پہلی بار مٹی کا ذکر آیا ہے، اس لیے اسے اسی طرح بیان کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کتے کے منہ ڈالنے پر برتن کو سات بار دھونا ہے۔
- اس روایت میں پہلی بار مٹی استعمال کرنے کا ذکر ہے۔
- برتن کی پاکی کے لیے حدیث کے مخصوص طریقے کو اہم سمجھنا چاہیے۔
