صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۱ - قطع رحم سے سخت تنبیہ
قطع رحم کی حدیث: رشتہ توڑنے سے بچنے کی صاف نصیحت
صحیح مسلم : ۶۵۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۲۱
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قطع رحم ہے، یعنی رشتہ داروں سے ناتا توڑنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف الفاظ میں فرمایا کہ قطع رحم کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس جملے میں رشتہ توڑنے کی سختی سمجھائی گئی ہے۔ عام زندگی میں کبھی ناراضی، غلط فہمی یا ضد کی وجہ سے خاندان میں دوری آ جاتی ہے، مگر یہ حدیث بتاتی ہے کہ رشتہ داروں سے تعلق کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ صلہ رحمی کی حدیث تلاش کرنے والا شخص اسی پیغام کو پاتا ہے کہ رشتہ جوڑنا پسندیدہ عمل ہے اور قطع رحمی خطرناک رویہ ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ مسلمان اپنے قریبی رشتوں کو توڑنے سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رشتہ داروں سے ناتا توڑنا بہت سنگین عمل ہے۔
- خاندانی تعلق کو دین میں معمولی معاملہ نہیں سمجھا گیا۔
- مسلمان کو قطع رحمی سے بچنے کی فکر رکھنی چاہیے۔
