صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۰ - ناتا توڑنے کی سخت وعید

قطع رحمی حدیث: رشتہ توڑنے کی سخت تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۲۰

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ .

جبیر بن مطعم روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جائے گا جنت میں وہ جو ناتے کو توڑے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۲۰ کا خلاصہ

یہ قطع رحمی حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام سخت اور صاف ہے۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ناتا توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ حدیث کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ رشتہ داری کو توڑنا صرف سماجی مسئلہ نہیں، دینی اعتبار سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ خاندان میں اختلاف ہو سکتا ہے، مگر مکمل قطع تعلق، ضد، نفرت اور رشتے کو ختم کر دینا آسان بات نہیں سمجھنی چاہیے۔ اس حدیث میں صلہ رحمی کے الٹ عمل یعنی قطع رحمی پر وعید ہے۔ اس لیے مسلمان کو جہاں ممکن ہو، حکمت، نرمی اور خیر کے ساتھ تعلق بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ناتا توڑنے پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔
  • رشتہ داری کا حق دینی ذمہ داری سے جڑا ہے۔
  • اختلاف کے باوجود تعلق ختم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
  • صلہ رحمی کا راستہ خیر اور احتیاط کا راستہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں