صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۹ - رحم عرش سے لٹکا ہوا ہے

رشتہ داری جوڑنے کی حدیث: رحم کا عرش سے تعلق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۱۹

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، تَقُولُ : مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناتا عرش سے لٹکا ہوا ہے اور کہتا ہے: جو مجھ کو ملائے اللہ اس کو اپنے سے ملائے گا اور جو مجھ کو کاٹے اللہ اس کو اپنے سے کاٹے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں صلہ رحمی کا مضمون نہایت واضح الفاظ میں آیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رحم عرش سے لٹکا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ جو مجھے ملائے اللہ اسے اپنے سے ملائے، اور جو مجھے کاٹے اللہ اسے اپنے سے کاٹے۔ یہ الفاظ رشتہ داری جوڑنے کی حدیث کو بہت سنجیدہ بنا دیتے ہیں۔ خاندان میں کبھی مزاج، بات، لین دین یا دوری کی وجہ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔ اس روایت کا اصل سبق یہ ہے کہ رشتوں کو کاٹنا آسان فیصلہ نہ سمجھا جائے۔ جوڑنے کی کوشش، بات چیت، خیر خواہی اور مناسب تعلق رکھنا صلہ رحمی کے معنی سے قریب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رحم کا مقام حدیث میں بہت عظیم انداز سے بیان ہوا ہے۔
  • رشتے جوڑنے والے کے لیے اللہ سے تعلق کی خوش خبری ہے۔
  • رشتہ کاٹنے پر سخت تنبیہ آئی ہے۔
  • خاندان میں تعلق بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں