صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۸ - رشتہ داری جوڑنے کی فضیلت

صلہ رحمی حدیث: رشتہ داری جوڑنے کا مقام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۱۸

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ قَالَت : بَلَى ، قَالَ : فَذَاكِ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ { 22 } أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ { 23 } أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا { 24 } سورة محمد آية 22-24 " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ تعالیٰ نے خلق کو بنایا، پھر جب ان کے بنانے سے فراغت پائی تو ناتا کھڑا ہوا اور بولا: یہ مقام اس کا ہے (یعنی بزبان حال یا کوئی فرشتہ اس کی طرف سے بولا اور یہ تاویل ہے اور ظاہری معنی ٹھیک ہے کہ خود ناتا بولا: اور کوئی مانع نہیں ہے ناتے کی زبان ہونے سے اس عالم میں) جو ناتا توڑنے سے پناہ چاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہاں تو اس بات سے خوش نہیں کہ میں اس سے ملوں جو تجھ کو ملائے اور اس سے کاٹوں جو تجھ کو کاٹے۔“ ناتا بولا: میں راضی ہوں اس سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”پس تجھ کو یہ درجہ حاصل ہوا۔“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا جی چاہے تو اس آیت کو پڑھو اللہ تعالیٰ منافقوں سے فرماتا ہے:«فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ * أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ * أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا *» ‏‏‏‏ (۴۷-محمد: ۲۲-۲۴) ”اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور ناتوں کو توڑو۔ یہ لوگ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ ان کو بہرا کر دیا (حق بات کے سننے سے) اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔ کیا غور نہیں کرتے قرآن میں، کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۱۸ کا خلاصہ

یہ صلہ رحمی حدیث رشتہ داری کے حق کو بہت مضبوط انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر رحم کھڑا ہوا اور قطع تعلق سے پناہ مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے ملوں جو تجھے ملائے، اور اس سے کاٹوں جو تجھے کاٹے؟ رحم نے کہا: ہاں۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے قرآن کی آیات پڑھنے کی طرف توجہ دلائی جن میں زمین میں فساد اور رشتوں کو کاٹنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا پیغام صاف ہے کہ رشتہ داری جوڑنا اللہ کے نزدیک اہم عمل ہے، اور رشتہ توڑنا معمولی بات نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رشتہ داری جوڑنا اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
  • قطع رحمی کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • قرآن کی آیات بھی رشتوں کو کاٹنے پر سخت تنبیہ کرتی ہیں۔
  • خاندان کے تعلقات کو سنبھالنا دینی ذمہ داری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں