صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۲ - ترک ملاقات
ترک ملاقات کی حدیث: بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے
صحیح مسلم : ۶۵۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۳۲
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ " .
ابوایوب انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو درست نہیں اپنے بھائی مسلمان کا چھوڑ دینا تین راتوں سے زیادہ اس طرح پر کہ دونوں ملیں یہ ادھر منہ پھیر لے وہ ادھر منہ پھیر لے۔ اور بہتر ان دونوں میں وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ترک ملاقات اور صلح کی پہل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین راتوں سے زیادہ چھوڑ دے، اس طرح کہ دونوں ملیں تو ایک ادھر منہ پھیر لے اور دوسرا ادھر۔ پھر فرمایا کہ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔ یہ سلام میں پہل کی حدیث ناراض لوگوں کے لیے بہت عملی نصیحت ہے۔ کبھی اختلاف ہو جائے تو دل میں ضد نہ بڑھائی جائے۔ تین دن سے زیادہ ناراضی کو عادت بنانا درست نہیں۔ اس روایت میں صلح کا آسان راستہ بتایا گیا ہے: سلام میں پہل۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق درست نہیں۔
- منہ پھیر کر بے رخی اختیار کرنا ناپسندیدہ رویہ ہے۔
- بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کر کے صلح کا دروازہ کھولے۔
