صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۷ - سلام میں پہل کرنے والا بہتر ہے

سلام میں پہل کی حدیث: ناراضی ختم کرنے کا آسان راستہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۷۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ " .

ابوایوب انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ ملاقات چھوڑے۔ پھر صورت بیان فرمائی کہ دونوں ملیں، ایک منہ پھیر لے اور دوسرا بھی منہ پھیر لے۔ اس کے بعد فرمایا کہ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سلام، صلح اور ناراضی ختم کرنا ہے۔ یہ بہت عملی تعلیم ہے۔ کبھی دل میں رنجش رہتی ہے، مگر ایک سلام بات بدل سکتا ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ اختلاف کبھی ہوگا ہی نہیں؛ بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ اختلاف کے بعد تعلق کیسے جوڑا جائے۔ سلام میں پہل کرنا کمزوری نہیں، بلکہ بہتر ہونے کی نشانی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ناراضی کے بعد سلام میں پہل کرنا بہتر عمل ہے۔
  • منہ پھیر کر تعلق توڑنا مسلمان بھائی چارے کے خلاف ہے۔
  • تین راتوں سے زیادہ ملاقات چھوڑنا جائز نہیں بتایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں