صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۶ - حسد، بغض اور تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کی ممانعت

مسلمان بھائی چارہ کی حدیث: تین دن سے زیادہ بات بند نہ کریں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۷۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند کرے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے لیے صاف اصول بیان فرمائے۔ آپ نے فرمایا کہ آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ پھر فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ بات چیت بند رکھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسلمان بھائی چارہ، حسد سے بچاؤ اور قطع تعلقی ختم کرنا ہے۔ اسلام صرف عبادت کے ظاہری اعمال تک محدود نہیں؛ لوگوں سے رویہ بھی دین کا حصہ ہے۔ اگر دل میں رنجش ہو تو اسے لمبا کرنے کے بجائے صلح، سلام اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حسد اور بغض مسلمان بھائی چارے کے خلاف ہیں۔
  • ناراضی کو تین راتوں سے زیادہ بڑھانا درست نہیں۔
  • مسلمانوں کو ایک دوسرے سے بھائیوں جیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں