صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۰ - شوہر کی دعوتِ بستر سے انکار
شوہر کی دعوتِ بستر سے انکار: زوجین کے حقوق کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۵۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۴۰
حدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا ، فَتَأْبَى عَلَيْهِ ، إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی مرد ایسا نہیں کہ وہ اپنی عورت کو بچھونے کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر اس پر وہ پروردگار جو آسمان کے اوپر ہے غصہ میں رہتا ہے جب تک وہ اس عورت سے راضی نہ ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۵۴۰ کا خلاصہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی مرد اپنی عورت کو بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے، تو جو آسمان کے اوپر ہے وہ اس عورت پر ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس سے راضی ہو جائے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع زوجین کے حقوق ہے۔ روایت خاص طور پر اس صورت کو بیان کرتی ہے جہاں شوہر بستر کی طرف بلائے اور بیوی انکار کرے۔ اس میں سخت تنبیہ آئی ہے، اس لیے اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔ ساتھ ہی وضاحت صرف اسی متن تک رکھی جانی چاہیے، کیونکہ حدیث میں یہی خاص صورت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کی جائز دعوتِ بستر کو حدیث میں اہم حق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- انکار کی صورت میں سخت تنبیہ آئی ہے جب تک شوہر راضی نہ ہو۔
- ازدواجی حقوق کو سنجیدگی اور نرمی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
