صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۹ - بستر پر واپس آنے تک تنبیہ
شوہر کے بستر پر واپس آنے تک: حدیث کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۵۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۳۹
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : حَتَّى تَرْجِعَ .
شعبہ روایت:
شعبہ سے یہی مضمون مروی ہے اس میں ہے کہ ”لعنت کرتے ہیں اس کو فرشتے یہاں تک کہ لوٹ کر شوہر کے بچھونے پر آئے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۳۹ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے مضمون کو ایک دوسرے لفظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہاں آیا ہے کہ فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ شوہر کے بچھونے پر واپس آ جائے۔ اس سے حدیث کا زور مزید واضح ہوتا ہے کہ معاملہ صرف رات کے گزرنے تک محدود بیان نہیں ہوا، بلکہ واپسی تک کی تنبیہ بھی آئی ہے۔ اس حدیث کا موضوع زوجین کے حقوق اور ازدواجی تعلق کی ذمہ داری ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ میاں بیوی کے رشتے میں ناراضی کو اتنا نہ بڑھایا جائے کہ حق ادا نہ ہو۔ روایت خاص طور پر بستر چھوڑنے کی صورت بیان کر رہی ہے، اس لیے اس کے پیغام کو اسی خاص دائرے میں سمجھنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بستر چھوڑنے کے معاملے کو حدیث نے سنجیدہ انداز میں بیان کیا۔
- واپسی تک کے الفاظ ناراضی ختم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
- زوجین کے حقوق میں لاپرواہی مناسب نہیں۔
