صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۶ - بدگمانی
بدگمانی سے بچو: دل، زبان اور تعلقات کی حفاظت
صحیح مسلم : ۶۵۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۳۶
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچو تم بدگمانی سے کیونکہ بدگمانی بڑا جھوٹ ہے اور مت کان لگاؤ کسی کی باتوں پر اور مت ٹوہ لگاؤ اور مت رشک کرو (دنیا میں لیکن دین میں درست ہے) اور مت حسد کرو اور مت بغض رکھو اور مت دشمنی کرو اور ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بدگمانی اور اسلامی بھائی چارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی بڑا جھوٹ ہے۔ پھر کان لگا کر باتیں سننے، ٹوہ لگانے، رشک، حسد، بغض اور دشمنی سے منع فرمایا، اور آخر میں فرمایا کہ اللہ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ۔ بدگمانی کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تعلقات صرف ظاہری جھگڑوں سے نہیں ٹوٹتے، دل کے خیال، شک اور ٹوہ بھی نقصان دیتے ہیں۔ کسی کی باتوں کے پیچھے پڑنا، راز معلوم کرنے کی کوشش کرنا اور دل میں حسد رکھنا بھائی چارے کے خلاف ہے۔ اس روایت میں دل اور عمل دونوں کی صفائی کا پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدگمانی کو بڑا جھوٹ کہا گیا ہے۔
- ٹوہ لگانے اور کسی کی باتیں سننے سے روکا گیا ہے۔
- حسد، بغض اور دشمنی چھوڑ کر بھائی بھائی بننے کی نصیحت ہے۔
