صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۵ - قطع تعلق

قطع تعلق کی حد: تین دن کے بعد ناراضی نہ بڑھائیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۳۵

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے بعد چھوڑنا نہیں ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں: تین دن کے بعد چھوڑنا نہیں ہے۔ اس کا موضوع قطع تعلق اور ناراضی کی حد ہے۔ کبھی دل دکھتا ہے، کوئی بات بری لگتی ہے، یا اختلاف ہو جاتا ہے، لیکن حدیث یہ نہیں چاہتی کہ مسلمان اپنی ناراضی کو لمبا کر کے مستقل دوری بنا لے۔ تین دن سے زیادہ ناراض رہنے کی حدیث روزمرہ زندگی کے لیے بہت ضروری نصیحت ہے۔ اس میں تفصیل کم ہے مگر بات صاف ہے کہ مسلمان کو اپنے بھائی سے تعلق بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ضد، انا اور خاموشی کو اتنا نہ بڑھایا جائے کہ بھائی چارہ ختم ہونے لگے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تین دن کے بعد ترک تعلق جاری رکھنا درست نہیں۔
  • ناراضی کو مستقل عادت نہیں بنانا چاہیے۔
  • مسلمان کو تعلق بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں