صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۴ - تین دن ناراضی
تین دن سے زیادہ ناراضی: مؤمن بھائی کو نہ چھوڑیں
صحیح مسلم : ۶۵۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں حلال ہے اپنے مؤمن بھائی کو چھوڑ دینا تین دن سے زیادہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔ الفاظ مختصر ہیں مگر پیغام بہت واضح ہے۔ ناراضی انسانوں میں ہو سکتی ہے، مگر اسے لمبا کر کے تعلق توڑ دینا درست نہیں۔ تین دن سے زیادہ ناراضی کی حدیث اسی بات کو سمجھاتی ہے کہ مسلمان کو اپنے بھائی کے ساتھ تعلق باقی رکھنے کی فکر کرنی چاہیے۔ اس روایت میں سلام کا ذکر نہیں، مگر اصل حکم ترک تعلق کی مدت کے بارے میں ہے۔ اس لیے اس حدیث کے مطابق مسلمان کو ضد، بے رخی اور لمبی دوری سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مؤمن بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑنا درست نہیں۔
- ناراضی کو لمبا کرنا تعلق کو کمزور کرتا ہے۔
- حدیث مختصر ہے مگر صلح کی طرف واضح رہنمائی دیتی ہے۔
