صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۸ - دھوکا اور حسد

دھوکا اور حسد سے بچیں: بھائی چارہ قائم رکھیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۳۸

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت حسد کرو اور مت بغض کرو اور مت ٹوہ لگاؤ اور مت کان لگاؤ کسی کا بھید سننے کو اور مت دھوکہ بازی کرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد، بغض، ٹوہ لگانے، کسی کا بھید سننے اور دھوکہ بازی سے منع فرمایا، پھر فرمایا کہ اللہ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ۔ اس کا مرکزی موضوع دل کی خرابی اور معاملے کی خرابی دونوں سے بچنا ہے۔ حسد اور بغض دل میں دوری پیدا کرتے ہیں، جبکہ ٹوہ اور بھید سننے کی عادت دوسروں کا اعتماد توڑ دیتی ہے۔ دھوکہ بازی کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کا رویہ صاف ہونا چاہیے۔ بھائی چارہ تب مضبوط رہتا ہے جب دل میں حسد نہ ہو، زبان اور عمل سے نقصان نہ دیا جائے، اور معاملہ سیدھا رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حسد اور بغض سے بچنے کا حکم ہے۔
  • جاسوسی اور بھید سننے کی عادت سے منع کیا گیا ہے۔
  • دھوکہ بازی بھائی چارے کے خلاف ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں