صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۹ - اخلاقی تعلقات
اخلاقی تعلقات: قطع، دشمنی، بغض اور حسد نہ کرو
صحیح مسلم : ۶۵۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۳۹
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ : لَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع نہ کرو اور دشمنی اور بغض نہ کرو اور حسد نہ کرو اور جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے اس کے بندے بن جاؤ۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۳۹ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع نہ کرو، دشمنی اور بغض نہ کرو، حسد نہ کرو، اور جیسے اللہ نے حکم دیا ہے اس کے بندے بن جاؤ۔ یہ حدیث اسلامی تعلقات کے چند بڑے خراب رویوں کو ایک ساتھ روکتی ہے۔ قطع تعلق انسانوں کو دور کرتا ہے، دشمنی رویے کو سخت بناتی ہے، بغض دل کو خراب کرتا ہے، اور حسد دوسرے کی بھلائی دیکھ کر دل میں تنگی پیدا کرتا ہے۔ اخوت کی حدیث کا خلاصہ یہی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو اللہ کے بندوں کے لائق ہو۔ یہاں اصل سبق صاف دل اور جڑے ہوئے تعلقات کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قطع تعلق، دشمنی، بغض اور حسد سے منع کیا گیا ہے۔
- مسلمان کو اللہ کے حکم کے مطابق بھائی چارہ رکھنا چاہیے۔
- دل کی خرابی باہمی تعلقات کو خراب کر دیتی ہے۔
