صحیح مسلم حدیث ۶۵۴۳ - دل اور اعمال اللہ کے نزدیک اصل ہیں
دل اور اعمال کی حدیث: اللہ کے نزدیک اصل قدر کیا ہے؟
صحیح مسلم : ۶۵۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۴۳
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ ، وَأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ ، وَأَعْمَالِكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھے گا۔ لیکن تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک بہت سیدھی بات آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری شان، چہرے کی خوب صورتی یا مال کی کثرت انسان کو اللہ کے قریب کرنے کا اصل پیمانہ نہیں۔ اصل چیز دل کی حالت اور عمل ہے۔ اگر دل میں بھلائی، اخلاص اور پاکیزگی ہو، اور عمل بھی درست ہو، تو یہی انسان کے لیے فائدہ مند ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ صورت یا مال بے معنی ہیں، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں اصل وزن دل اور عمل کا ہے۔ اس لیے دل اور اعمال کی حدیث ہر اس شخص کے لیے یاد دہانی ہے جو دین کو صرف ظاہری پہچان سمجھ لیتا ہے۔ اپنے دل کو صاف رکھنا، اپنے عمل کو درست کرنا اور اللہ کی رضا کو سامنے رکھنا اس روایت کا سادہ پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ہاں اصل توجہ دل اور عمل پر ہے۔
- مال اور صورت کو دین کا اصل معیار نہیں بنایا گیا۔
- دل کی اصلاح کے ساتھ عمل کی درستگی بھی ضروری ہے۔
- ظاہری حالت پر فخر کے بجائے اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے۔
