صحیح مسلم حدیث ۶۵۴۵ - ترک ملاقات ختم کرنے کی نصیحت
ترک ملاقات کی حدیث: مسلمان بھائی سے دوری کتنی خطرناک ہے؟
صحیح مسلم : ۶۵۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۴۵
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ : إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ : إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس روایت میں یہ ہے کہ ”ان دو شخصوں کی مغفرت نہیں ہوتی جنہوں نے ترک ملاقات کی ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۴۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو مزید واضح کرتی ہے کہ دو مسلمان جب آپس میں ترک ملاقات کر لیتے ہیں تو یہ بات معمولی نہیں رہتی۔ متن میں آیا کہ ان دو شخصوں کی مغفرت نہیں ہوتی جنہوں نے ترک ملاقات کی ہو۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ ناراضی کو رشتہ توڑنے تک نہ لے جایا جائے۔ اسلام مسلمان بھائی کے ساتھ تعلق کو جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر دل میں کینہ ہو، سلام دعا بند ہو جائے، یا ملنا چھوڑ دیا جائے تو یہ دل کو سخت کر دیتا ہے۔ ترک ملاقات کی حدیث ہمیں اپنے رویے پر نظر ڈالنے کی دعوت دیتی ہے: کیا ہم کسی مسلمان بھائی سے صرف انا کی وجہ سے دور ہیں؟ اگر ایسا ہے تو صلح کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ حدیث میں مغفرت کے رکنے کا ذکر اسی لیے آیا کہ انسان سمجھ جائے، دل کی کدورت کو لمبا کرنا نقصان دہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان بھائی سے ترک ملاقات کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
- کینہ اور دوری مغفرت کے معاملے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
- صلح کی طرف بڑھنا حدیث کے مضمون سے صاف سمجھ آتا ہے۔
- انا کے بجائے بھائی چارہ اختیار کرنا بہتر ہے۔
