صحیح مسلم حدیث ۶۵۴۷ - کینہ ختم کرکے مغفرت کی امید
کینہ رکھنے کی حدیث: اعمال پیش ہوتے ہیں مگر صلح ضروری ہے
صحیح مسلم : ۶۵۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا ، أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ہر جمعہ میں دو بار پیر اور جمعرات کو، پھر مغفرت ہوتی ہے ہر مسلمان بندہ کی مگر اس بندہ کی نہیں جس کو کینہ ہو اپنے بھائی سے، تو کہا جاتا ہے چھوڑ دو یا ٹھہرائے رہو ان دونوں کو یہاں تک کہ مل جائیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ لوگوں کے اعمال ہر ہفتے دو بار، پیر اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ پھر ہر مومن بندے کی مغفرت ہوتی ہے، مگر اس بندے کی نہیں جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ پلٹ آئیں، یعنی صلح کی طرف آ جائیں۔ یہ روایت دل کی ناراضی کو بہت سنجیدگی سے لینے کی نصیحت کرتی ہے۔ کینہ رکھنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کو اپنے بھائی کے ساتھ تعلق بگاڑ کر خوش نہیں رہنا چاہیے۔ ناراضی ہو سکتی ہے، مگر اسے لمبا کرنا اور دل میں بٹھا لینا درست رویہ نہیں۔ حدیث کا آسان سبق یہ ہے کہ اپنے اعمال کی فکر کے ساتھ لوگوں کے حقوق اور رشتوں کی بھی فکر کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اعمال ہفتے میں دو بار پیش ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- مومن بندے کی مغفرت کا بیان کینہ نہ رکھنے سے جڑا ہے۔
- بھائیوں کے درمیان صلح کو اہم بنایا گیا ہے۔
- دل کی ناراضی کو لمبا کرنا مناسب نہیں۔
