صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۷ - تکلیف پر نیکی یا خطا کی کمی

تکلیف پر نیکی لکھے جانے کی حدیث: کانٹا بھی بے فائدہ نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۷

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں مومن کو پہنچنے والی تکلیف کا ایک اور پہلو بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومن کو کوئی چیز پہنچے، یہاں تک کہ کانٹا بھی، تو اللہ اس کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھتا ہے یا اس کی خطا کم کر دی جاتی ہے۔ یہ الفاظ مومن کے دل کو سہارا دیتے ہیں۔ کبھی چھوٹی بیماری، تھکن، چوٹ یا رنج انسان کو پریشان کر دیتا ہے، مگر حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں یہ سب دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے تکلیف کے وقت مایوسی کے بجائے صبر، دعا اور اللہ پر بھروسا ہونا چاہیے۔ اس حدیث کا موضوع مومن کی تکلیف، نیکی کا اجر اور گناہوں کی معافی ہے۔ یہ ہمیں دوسروں کی تکلیف کو بھی سنجیدگی سے لینے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کی تکلیف کے بدلے نیکی لکھی جا سکتی ہے۔
  • کانٹا چبھنا بھی خطا کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
  • تکلیف میں مایوسی کے بجائے صبر اور دعا کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
  • دوسرے مسلمان کے درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں