صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۸ - رنج، بیماری اور گناہوں کا کفارہ
بیماری، غم اور فکر: گناہوں کے کفارے کی جامع حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِى هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ ، حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " .
سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کو جب کوئی تکلیف یا ایذا ہو یا بیماری ہو یا رنج ہو یہاں تک کہ فکر جو اس کو ہوتی ہے تو اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۸ کا خلاصہ
یہ حدیث مومن کی کئی طرح کی تکلیفوں کا ذکر کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مومن کو جو تکلیف، ایذا، بیماری، رنج، حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے، اس کے سبب اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔ اس میں صرف جسمانی درد نہیں بلکہ دل کا غم اور ذہنی فکر بھی شامل ہے۔ عام زندگی میں انسان بیماری، تھکن، پریشانی، فکر اور اداسی سے گزرتا ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ مومن کے لیے یہ حالتیں اللہ کے ہاں بے معنی نہیں۔ اس کا مقصد انسان کو صبر، دعا اور امید دینا ہے۔ البتہ اپنی پریشانی کا علاج، مشورہ اور مدد لینا بھی درست ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مومن کی تکلیف اس کے لیے گناہوں کی معافی کا سبب بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کی جسمانی تکلیف گناہوں کے کفارے کا سبب بن سکتی ہے۔
- غم اور فکر بھی اس حدیث میں تکلیف کی صورتوں میں شامل ہیں۔
- بیماری اور رنج میں صبر کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
- حدیث مومن کو مایوسی کے بجائے امید کا پیغام دیتی ہے۔
