صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۹ - مصیبت کفارہ اور میانہ روی
مصیبت کفارہ ہے: میانہ روی اور درست راستے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۵۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۶۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ ، شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، فَفِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا ، أَوِ الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا " ، قَالَ مُسْلِم : هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
جب یہ آیت اتری «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» (۴-النساء: ۱۲۳) ”جو کوئی برائی کرے گا اس کو اس کا بدلہ ملے گا“ تو مسلمانوں پر بہت سخت گزرا (کہ ہرگناہ کے بدلے ضرور عذاب ہو گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرو اور ٹھیک راستے کو ڈھونڈو اور مسلمان کی ہر ایک مصیبت کفارہ ہے یہاں تک کہ ٹھوکر اور کانٹا بھی .“ (تو بہت سے گناہوں کا بدلہ دنیا ہی میں ہو جائے گا اور امید ہے کہ آخرت میں مواخذہ نہ ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں کی فکرمندی کا ذکر ہے۔ جب یہ بات سامنے آئی کہ جو برائی کرے گا اسے بدلہ ملے گا تو مسلمانوں پر یہ معاملہ سخت محسوس ہوا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں رہنمائی دی کہ میانہ روی اختیار کرو اور ٹھیک راستہ ڈھونڈو۔ پھر فرمایا کہ مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ کفارہ ہے، یہاں تک کہ ٹھوکر لگنا یا کانٹا چبھنا بھی۔ اس حدیث کا پیغام بہت متوازن ہے: گناہ کو ہلکا نہ سمجھو، مگر اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہ ہو۔ بندہ سیدھا راستہ تلاش کرے، اپنی اصلاح کرے اور جو تکلیف آئے اسے اللہ کے ہاں کفارے کی امید کے ساتھ برداشت کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گناہ کے معاملے میں سنجیدگی ہونی چاہیے، مایوسی نہیں۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے میانہ روی اور درست راستہ تلاش کرنے کی تعلیم دی۔
- مسلمان کی مصیبت، ٹھوکر اور کانٹا بھی کفارے کا سبب بن سکتا ہے۔
- تکلیف کے وقت اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
