صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۱ - اللہ نرمی پسند کرتا ہے

نرمی کی حدیث: اللہ نرم مزاجی کو پسند کرتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۱

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ : " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ نرمی (اور خوش خلقی) پسند کرتا ہے اور خود بھی نرم ہے اور دیتا ہے نرمی پر جو نہیں دیتا سختی پر اور نہ کسی چیز پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام نرمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اللہ خود نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ بات چیت، گھر کے معاملات، لوگوں سے برتاؤ اور کسی بھی کام میں نرم رویہ بہتر ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اللہ نرمی پر وہ عطا فرماتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔ اس لیے نرمی کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غصے، تیزی اور سخت لہجے کے بجائے نرم بات، اچھا انداز اور خوش خلقی اختیار کی جائے۔ یہ بات کسی خاص موقع تک محدود نہیں بلکہ متن کے الفاظ عام انداز میں نرمی کی خوبی بتاتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ نرمی کو پسند فرماتا ہے۔
  • سختی کے مقابلے میں نرم رویہ بہتر اثر رکھتا ہے۔
  • بات کرتے وقت نرم لہجہ اختیار کرنا اچھا عمل ہے۔
  • خوش خلقی انسان کے رویے کو بہتر بناتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں