صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۲ - نرمی ہر چیز کو خوبصورت بنا دیتی ہے
نرمی کی حدیث: نرم مزاجی ہر کام کی زینت ہے
صحیح مسلم : ۶۶۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۲
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی میں نرمی ہو تو اس کی زینت ہو جاتی ہے اور جب نرمی نکل جائے تو عیب ہو جاتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نرمی کی خوبصورتی بہت آسان لفظوں میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی چیز میں نرمی ہوتی ہے تو وہ اسے زینت دیتی ہے، اور جب نرمی نکال دی جائے تو وہ چیز عیب دار ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی بات، اس کا فیصلہ، اس کا گھر کا رویہ، اس کا سفر، اور لوگوں سے اس کا معاملہ نرمی سے بہتر بن سکتا ہے۔ نرمی کی حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ حق بات چھوڑ دو، بلکہ متن کے مطابق یہ بتاتی ہے کہ نرمی موجود ہو تو معاملہ سنور جاتا ہے۔ سختی، تلخی اور بے صبری سے انسان کا اچھا کام بھی برا لگ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نرمی کسی بھی کام کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔
- نرمی نہ رہے تو اچھے معاملے میں بھی عیب آ سکتا ہے۔
- اچھے اخلاق میں نرم مزاجی کی خاص جگہ ہے۔
- تلخی کے بجائے آرام سے بات کرنا بہتر ہے۔
