صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۳ - جانور کے ساتھ بھی نرمی

جانور کے ساتھ نرمی کی حدیث: سختی کے بجائے نرم رویہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۳

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا ، فَكَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر چڑھیں وہ منہ زور تھا اس کو پھرانے لگیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی ”تجھ کو نرمی کرنی چاہیے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۳ کا خلاصہ

اس روایت میں نرمی کا پیغام ایک عملی واقعے کے ساتھ آیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار تھیں، اونٹ میں کچھ سختی اور منہ زوری تھی، تو وہ اسے بار بار پھیرنے لگیں۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر نرمی لازم ہے، پھر وہی بات بیان فرمائی کہ نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے۔ اس حدیث سے جانور کے ساتھ نرمی کا سبق بھی ملتا ہے، مگر متن صرف اسی واقعے تک محدود ہے۔ نرمی کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکل وقت میں بھی غصے کے بجائے نرم انداز اختیار کرنا بہتر ہے، چاہے معاملہ سواری کا ہو یا کسی اور کام کا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانور کے ساتھ بھی نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
  • مشکل صورت حال میں غصہ بڑھانے کے بجائے نرمی بہتر ہے۔
  • نرمی کام کو سنوارتی ہے اور سختی عیب پیدا کر سکتی ہے۔
  • سواری یا جانور کو قابو کرتے وقت بے جا سختی سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں