صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۴ - جانور پر لعنت سے بچو
جانور پر لعنت کی حدیث: زبان کو بددعا سے بچائیں
صحیح مسلم : ۶۶۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَامْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ ، فَضَجِرَتْ ، فَلَعَنَتْهَا ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " ، قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَرَاهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ .
عمران بن حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر سوار تھی وہ تڑپی عورت نے اس پر لعنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور فرمایا: ”اس اونٹنی پر جو کچھ ہے وہ اتار لو اور اس کو چھوڑ دو کیونکہ وہ ملعون ہے۔“ عمران نے کہا: میں اس اونٹنی کو گو اس وقت دیکھ رہا ہوں وہ پھرتی تھی لوگوں میں کوئی اس سے تعرض نہ کرتا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک سفر کا واقعہ ہے۔ ایک انصاری عورت اونٹنی پر سوار تھی، اونٹنی تڑپی تو عورت نے اس پر لعنت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا کہ اس پر جو کچھ ہے اتار لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ ملعون ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع لعنت سے بچنا ہے، خاص طور پر غصے میں زبان سے نکلنے والی بددعا۔ جانور پر لعنت کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ زبان کا استعمال معمولی بات نہیں۔ جب آدمی تنگی یا جھنجھلاہٹ میں ہو تب بھی اسے لعنت جیسے الفاظ سے بچنا چاہیے۔ متن میں یہی بات ایک اونٹنی کے واقعے کے ذریعے سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غصے میں جانور پر لعنت کرنا درست رویہ نہیں۔
- زبان سے نکلنے والے الفاظ کا اثر سنجیدہ ہوتا ہے۔
- سفر یا تنگی میں بھی بددعا سے بچنا چاہیے۔
- لعنت کے الفاظ عام عادت نہیں بننے چاہییں۔
