صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۵ - لعنت والے الفاظ سے پرہیز
لعنت سے بچنے کی حدیث: غصے میں زبان سنبھالیں
صحیح مسلم : ۶۶۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيلَ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ ، قَالَ عِمْرَانُ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ ، فَقَالَ : خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ .
ترجمہ وہی ہے جو گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ عمران نے کہا: میں اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں وہ خاکی رنگ کی اونٹنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ اس پر ہے اتار لو اور اس کو ننگا کر دو کیونکہ وہ ملعون ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے واقعے ہی کی ایک دوسری نقل ہے، جس میں یہ بات بھی آئی کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اس اونٹنی کا رنگ بھی بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ اس پر ہے اتار لو اور اسے ننگا کر دو، کیونکہ وہ ملعون ہے۔ اس حدیث کا مرکز جانور پر لعنت اور زبان کی حفاظت ہے۔ کبھی آدمی غصے میں یا جلدی میں ایسا لفظ بول دیتا ہے جو بہت بھاری ہوتا ہے۔ لعنت کرنے کی حدیث ہمیں روکتی ہے کہ جانور، سواری یا کسی چیز کے بارے میں زبان کو بے قابو نہ کیا جائے۔ متن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل اس بات کو سنجیدہ بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لعنت کے الفاظ کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
- غصہ آئے تو زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- جانور پر ناراضی ہو تب بھی بددعا نہ کی جائے۔
- سفر کے معمولی مسئلے میں بھی اچھا لہجہ ضروری ہے۔
