صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۶ - لعنت والی سواری ساتھ نہ رہے
اونٹنی پر لعنت کی حدیث: تنگی میں بھی بددعا نہ کریں
صحیح مسلم : ۶۶۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۶
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ ، إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَضَايَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ ، فَقَالَتْ : حَلِ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُصَاحِبْنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ " .
ابوبرزہ اسلمی روایت:
ایک بار ایک لڑکی اونٹنی پر سوار تھی اس پر لوگوں کا اسباب بھی تھا یکایک اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور راستہ میں پہاڑ کی راہ تنگ تھی، وہ لڑکی بولی:: حل (یہ آواز ہے اونٹ کے ہانکنے کی) یا اللہ! لعنت کر اس پر۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے جس پر لعنت ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر کا ایک اور واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک لڑکی اونٹنی پر سوار تھی اور لوگوں کا کچھ سامان بھی اس پر تھا۔ راستہ پہاڑ کی وجہ سے تنگ تھا۔ اسی تنگی میں اس نے اونٹنی کو ہانکا اور ساتھ ہی اللہ سے اس پر لعنت کی دعا کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے جس پر لعنت ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مشکل راستہ، جلدی یا پریشانی انسان کو لعنت کے الفاظ بولنے کا جواز نہیں دیتی۔ جانور پر لعنت کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ تنگ حالات میں بھی زبان کو نرم اور صاف رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تنگی اور پریشانی میں بھی لعنت سے بچنا چاہیے۔
- سواری یا جانور پر غصہ آئے تو بددعا نہ کی جائے۔
- زبان کے الفاظ انسان کے عمل کا حصہ بنتے ہیں۔
- مشکل سفر میں بھی اچھے اخلاق ضروری ہیں۔
