صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۷ - اللہ کی لعنت والی سواری

لعنت والی سواری کی حدیث: الفاظ سوچ کر بولیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ . ح وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ : لَا أَيْمُ اللَّهِ لَا تُصَاحِبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ ، أَوْ كَمَا قَالَ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا، اس میں یہ ہے کہ ”اللہ کی قسم! ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے جس پر اللہ کی طرف سے لعنت ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۷ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی واقعے کی مزید وضاحت ہے جس میں لڑکی نے اونٹنی پر لعنت کی تھی۔ اس نقل میں الفاظ زیادہ سخت انداز سے آئے ہیں کہ اللہ کی قسم، ہمارے ساتھ وہ سواری نہ رہے جس پر اللہ کی طرف سے لعنت ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لعنت کا لفظ معمولی ناراضی کا لفظ نہیں۔ جانور پر لعنت کی حدیث ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ غصے میں بولے گئے الفاظ کو ہلکا نہ لیا جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب سواری، جانور یا کوئی کام مشکل ہو جائے تو زبان سے بددعا کے بجائے صبر اور نرمی کا انداز اپنائے۔ یہی متن کا اصل سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لعنت کا لفظ معمولی غصے میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
  • جانور یا سواری کے بارے میں زبان کو پاک رکھنا چاہیے۔
  • مشکل وقت میں صبر اور نرمی بہتر ہے۔
  • بولنے سے پہلے لفظ کے وزن کو سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں