صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۸ - صدیق لعنت کرنے والا نہیں ہوتا

لعنت کرنے کی حدیث: صدیق کی زبان پاک ہوتی ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۸

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدیق کو لعنت کر نے والا نہ ہونا چاہیے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مختصر مگر گہری بات فرمائی کہ صدیق کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بہت لعنت کرنے والا ہو۔ صدیق کا مطلب سچائی اور راست بازی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ایسی شخصیت کی زبان میں بار بار لعنت، بددعا اور سخت الفاظ مناسب نہیں۔ لعنت کرنے کی حدیث ہمیں روزمرہ گفتگو پر غور کراتی ہے۔ کبھی لوگ ناراضی، مذاق یا عادت میں لعنت جیسے الفاظ بول دیتے ہیں، مگر اس حدیث کا صاف پیغام ہے کہ اچھے کردار والے شخص کو اپنی زبان سنبھالنی چاہیے۔ متن میں کسی لمبی بحث کے بجائے ایک اصول دیا گیا ہے: سچائی کے ساتھ نرم اور پاک زبان بھی ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • راست باز انسان لعنت کو عادت نہیں بناتا۔
  • اچھے کردار کے ساتھ اچھی زبان بھی ضروری ہے۔
  • غصے یا ناراضی میں سخت الفاظ سے بچنا چاہیے۔
  • لعنت کرنا مومن کے شایان شان نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں