صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۹ - سچی زبان اور لعنت سے بچاؤ
مومن کی زبان: لعنت کو عادت نہ بنائیں
صحیح مسلم : ۶۶۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۰۹
حَدَّثَنِيهِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
علاء بن عبدالرحمٰن روایت:
علاء بن عبدالرحمٰن سے اس سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۰۹ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کی تائید کرتی ہے کہ صدیق کو لعنت کرنے والا نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں اصل زور زبان کی عادت پر ہے۔ آدمی کا سچا ہونا صرف دعوے سے نہیں، بلکہ اس کے بولنے کے انداز سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اگر زبان بار بار لعنت، بددعا اور سخت الفاظ کی عادی ہو جائے تو یہ اچھے کردار کے خلاف ہے۔ لعنت کرنے کی حدیث ہمیں اپنی روزمرہ گفتگو دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے: ہم غصے میں کیا کہتے ہیں، گھر والوں سے کیسے بولتے ہیں، اور اختلاف میں کون سے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس متن کے مطابق صدیق کا مقام نرم، صاف اور محتاط زبان سے زیادہ مناسب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سچے انسان کو لعنت کی عادت سے بچنا چاہیے۔
- زبان کا انداز کردار کی پہچان بن جاتا ہے۔
- اختلاف میں بھی بددعا اور لعنت سے پرہیز بہتر ہے۔
- اچھا مسلمان اپنی گفتگو کا خیال رکھتا ہے۔
