صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۱ - لعنت کی عادت سے بچنے کی تاکید
لعنت سے بچنے کی حدیث: عادت بننے سے پہلے رک جائیں
صحیح مسلم : ۶۶۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۱ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے اور نہ گواہ۔ اس حدیث میں ہمیں زبان کی ایک خاص خرابی سے روکا گیا ہے: بار بار لعنت کرنا۔ آدمی کبھی غصے میں ایک لفظ کہتا ہے، پھر وہی لفظ عادت بن جاتا ہے۔ لعنت کرنے کی حدیث اس عادت کے بارے میں سنجیدہ تنبیہ دیتی ہے۔ یہاں کوئی لمبی فہرست نہیں دی گئی، بلکہ ایک واضح بات کہی گئی ہے کہ ایسی زبان قیامت کے دن عزت والی جگہ کے مناسب نہیں۔ اس لیے گھر، کام اور معاشرے میں لعنت سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لعنت کو معمول کی زبان نہیں بنانا چاہیے۔
- قیامت کے دن شفاعت اور گواہی کا معاملہ سنجیدہ ہے۔
- غصے کے الفاظ عادت بن سکتے ہیں، اس لیے شروع ہی سے احتیاط ضروری ہے۔
- نرم اور پاک زبان اچھے کردار کے قریب ہے۔
