صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۲ - لعنت کرنے والوں کا انجام
لعنت کرنے والوں کی حدیث: زبان کا انجام سوچیں
صحیح مسلم : ۶۶۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۲ کا خلاصہ
اس روایت میں الفاظ صاف ہیں کہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے اور نہ شفاعت کرنے والے۔ یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ زبان کا معاملہ صرف دنیا کی گفتگو نہیں۔ آدمی جو لفظ بولتا ہے، وہ اس کے دین اور کردار سے جڑ سکتا ہے۔ لعنت کرنے کی حدیث ہمیں خاص طور پر اس عادت سے بچاتی ہے کہ ہر ناراضی، ہر غلطی یا ہر دیر پر فوراً لعنت کر دی جائے۔ متن میں یہی پیغام ہے کہ لعنت کرنے والا انداز اچھے انجام کے لیے مناسب نہیں۔ اس لیے روزمرہ زندگی میں نرم لفظ، صبر اور خاموشی کو ترجیح دینا بہتر ہے، خاص طور پر جب غصہ زیادہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لعنت کرنے والوں کے بارے میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- زبان کا تعلق قیامت کے معاملے سے بھی ہے۔
- ہر ناراضی پر لعنت کرنا درست عادت نہیں۔
- غصے میں خاموشی یا نرم بات بہتر ہو سکتی ہے۔
