صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۳ - نبی صلى الله عليه وسلم رحمت بنا کر بھیجے گئے
رحمت کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم لعنت کے لیے نہیں بھیجے گئے
صحیح مسلم : ۶۶۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً " .
ابوہریرہ روایت:
لوگوں نے کہا:: یا رسول اللہ! بددعا کیجئیے مشرکو ں پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ لعنت کروں لوگوں پر بلکہ میں بھیجا گیا رحمت کا سبب بن کر۔“ (تو میرے آنے سے اللہ کی رحمت لوگوں کو زیادہ ہو گی نہ کہ لعنت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ» (۲۱-الأنبیاء: ١٠٧)
صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مشرکوں کے خلاف بددعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس روایت کا اصل موضوع رحمت ہے۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا انداز سامنے آتا ہے کہ آپ کا مشن لوگوں پر لعنت کرنا نہیں، بلکہ رحمت کا سبب بننا ہے۔ رحمت کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین کی بات کرتے وقت غصہ، نفرت اور بددعا کو اصل طریقہ نہ بنایا جائے۔ متن میں مشرکوں کا ذکر ہے، مگر جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد رحمت بتایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
- دین کی دعوت کا اصل مزاج لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے۔
- دشمنی کے ماحول میں بھی بددعا کو جلدی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- اچھے اخلاق دین کے پیغام کو بہتر انداز دیتے ہیں۔
