صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۵ - سخت لفظ مسلمان کے لیے پاکی بنے
پاکی اور اجر کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کا مفہوم
صحیح مسلم : ۶۶۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱۵
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وقَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى : فَخَلَوَا بِهِ ، فَسَبَّهُمَا ، وَلَعَنَهُمَا ، وَأَخْرَجَهُمَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے تنہائی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا: اور ان پر لعنت کی اور ان کو نکا ل دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کی دوسری نقل ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ وہ دونوں آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنہائی میں ہوئے، پھر آپ نے انہیں برا کہا، ان پر لعنت کی اور انہیں نکال دیا۔ اس کے بعد وہی مضمون ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ جس مسلمان کو میں برا کہوں یا لعنت کروں، اسے اس کے لیے پاکی اور اجر بنا دے۔ اس حدیث میں ہمیں متن سے دو باتیں ملتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشریت کا ذکر فرمایا، اور مسلمانوں کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔ اس سے باہر کوئی اضافی واقعہ یا حکم یہاں بیان نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا ذکر آیا ہے۔
- مسلمان کے لیے پاکی اور اجر کی دعا بیان ہوئی ہے۔
- سخت الفاظ کے بعد بھی مسلمان کے حق میں خیر کی دعا موجود ہے۔
- روایت کو اسی واقعے تک محدود سمجھنا چاہیے۔
