صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۶ - مسلمان کے لیے رحمت کی دعا
رحمت کی دعا والی حدیث: مسلمان کے حق میں خیر
صحیح مسلم : ۶۶۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۱۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ ، أَوْ لَعَنْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! میں آدمی ہوں تو جس مسلمان کو میں برا کہوں یا لعنت کروں یا ماروں، تو اس کو پاک کر دے اور اس پر رحمت کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں انسان ہوں، تو جس مسلمان کو میں برا کہوں، یا لعنت کروں، یا ماروں، تو اسے اس کے لیے پاکی اور رحمت بنا دے۔ اس روایت کا اصل موضوع دعا اور رحمت ہے۔ متن میں تین باتیں آئی ہیں: برا کہنا، لعنت کرنا، اور مارنا؛ پھر ان سب کے بارے میں دعا ہے کہ اللہ اسے مسلمان کے لیے پاکی اور رحمت بنا دے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ یہ خاص دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان ہوئی ہے، اور اس میں مسلمان کے حق میں خیر مانگی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشریت کا ذکر فرمایا۔
- مسلمان کے لیے پاکی اور رحمت کی دعا کی گئی۔
- حدیث میں برا کہنے، لعنت کرنے اور مارنے کا ذکر آیا ہے۔
- متن کا اصل پیغام مسلمان کے حق میں خیر کی دعا ہے۔
