صحیح مسلم حدیث ۶۶۲۰ - مومن کے حق میں خیر کی دعا
مومن کے لیے دعا کی حدیث: رحمت، پاکی اور قرب
صحیح مسلم : ۶۶۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۲۰
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَوْ جَلَدُّهُ ، قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ .
ترجمہ ان سب روایتوں کا وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۲۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کے قریب ہے۔ اس میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا مضمون بیان ہوا ہے کہ آپ انسان ہیں، اور جس مومن کے بارے میں آپ سے ایذا، سخت لفظ، لعنت یا مار کا معاملہ ہو، اللہ اسے اس کے لیے رحمت، پاکی اور قیامت کے دن قرب کا ذریعہ بنا دے۔ روایت میں ایک لفظ کے تلفظ کی وضاحت بھی آئی ہے، مگر اصل پیغام وہی ہے: مومن کے حق میں خیر کی دعا۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کو متن کے اندر رہ کر سمجھنا چاہیے، اور اسے عام بدزبانی کی اجازت نہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کے لیے رحمت، پاکی اور قرب کی دعا بیان ہوئی ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشریت کا ذکر فرمایا۔
- روایت میں الفاظ کی ادائیگی کی وضاحت امانت کے ساتھ آئی ہے۔
- حدیث کو عام بدزبانی کی اجازت کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔
