صحیح مسلم حدیث ۶۶۵ - اناج نہ کھانے والے بچے کا پیشاب
اناج نہ کھانے والے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا
صحیح مسلم : ۶۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، " أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، فَوَضَعَتْهُ فِي حَجْرِهِ ، فَبَالَ ، قَالَ : فَلَمْ يَزِدْ عَلَى أَنْ نَضَحَ بِالْمَاءِ " ،
ام قیس بنت محصن روایت:
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لے کر آئیں جو اناج نہیں کھاتا تھا اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا۔ اس نے پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط پانی اس پر چھڑک دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بچہ لائیں جو ابھی اناج نہیں کھاتا تھا۔ انہوں نے بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا۔ بچے نے پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صرف پانی چھڑک دیا۔ اس روایت میں خاص بات یہ ہے کہ بچے کے بارے میں صاف بتایا گیا ہے کہ وہ کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اسی لیے یہ حدیث دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے مسئلے میں بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ متن میں دھونے کی بات نہیں، بلکہ پانی چھڑکنے کا ذکر ہے۔ ہمیں بیان کرتے وقت اسی حد تک رہنا چاہیے جو روایت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹے بچے کی حالت کا ذکر حدیث میں اہم ہے کہ وہ کھانا نہیں کھاتا تھا۔
- اس واقعے میں پیشاب والی جگہ پر پانی چھڑکنے کا ذکر آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آسانی اور نرمی پر مبنی تھا۔
- حدیث کے الفاظ میں جو حد بیان ہو، اسی کو آگے بیان کرنا چاہیے۔
