صحیح مسلم حدیث ۶۶۶ - بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنا
بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنے کی روایت
صحیح مسلم : ۶۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۶
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَرَشَّهُ .
زہری روایت:
زہری بھی اس حدیث کو اس سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ لفظ ہیں کہ آپ نے پانی منگوایا اور چھینٹے مارے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۶ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو ایک اور لفظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ زہری رحمہ اللہ اسی سند سے یہ روایت نقل کرتے ہیں اور اس میں الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور چھینٹے مارے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ وہی ہے: ایک چھوٹا بچہ، جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا اور اس نے پیشاب کر دیا۔ اس روایت میں خاص لفظ چھینٹے مارنے کا آیا ہے۔ اس لیے بچے کے پیشاب، پانی چھڑکنے اور طہارت کے مسئلے میں یہ حدیث اہم سمجھی جاتی ہے۔ متن میں جو عمل ہے وہ پانی منگوانا اور اسے چھڑکنا ہے، اس سے آگے بات بڑھانا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ کبھی مختلف انداز سے نقل ہوتے ہیں مگر مضمون ایک رہتا ہے۔
- اس روایت میں پانی منگوانے اور چھینٹے مارنے کا ذکر ہے۔
- دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے مسئلے میں نرمی والا عمل آیا ہے۔
- مسائل بیان کرتے وقت روایت کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
