صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۵ - بلی پر ظلم کا انجام

بلی والی حدیث: جانور پر ظلم کا سخت انجام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۵

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت کو عذاب ہوا ایک بلی کی وجہ سے جس کو اس نے قید کیا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی، پھر وہ عورت جہنم میں گئی۔ اس عورت نے اس بلی کو نہ کھانا دیا، نہ پانی قید میں اور نہ چھوڑا کہ زمین کے کیڑوں کو کھاتی۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ذکر فرمایا جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا۔ اس نے بلی کو قید کر رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ نہ اس نے اسے کھانا دیا، نہ پانی دیا، اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ یہ بلی والی حدیث جانوروں کے ساتھ رحم کا صاف سبق دیتی ہے۔ اسلام میں جانور بھی اللہ کی مخلوق ہیں، اس لیے انہیں بلا وجہ قید کر کے بھوکا پیاسا رکھنا بہت سنگین عمل ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ جو جانور انسان کے قبضے میں ہو، اس کے کھانے پینے اور زندگی کا خیال رکھنا انسان کی ذمہ داری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانور کو قید کر کے بھوکا پیاسا رکھنا سخت گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔
  • اگر جانور کو رکھا جائے تو اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • بلی کو نہ کھانا دینا اور نہ آزاد چھوڑنا ظلم ہے۔
  • انسان کو کمزور مخلوق کے ساتھ رحم کا معاملہ کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں