صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۷ - بندھی ہوئی بلی کا واقعہ
بندھی ہوئی بلی کی حدیث: جانور کے حق کو نظر انداز نہ کریں
صحیح مسلم : ۶۶۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۷
وحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَوْثَقَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ اس بلی کو باندھ دیا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے باندھ دیا تھا۔ نہ اسے کھانا دیا، نہ پانی دیا، اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین سے اپنی خوراک لے سکتی۔ یہاں اصل بات جانور کو باندھنے کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی جانور انسان کے قابو میں ہے تو اس کا حق انسان کے ذمے آتا ہے۔ اسے اس حال میں چھوڑ دینا کہ وہ نہ کھا سکے، نہ پی سکے، نہ خود خوراک تلاش کر سکے، ظلم ہے۔ بلی والی حدیث جانوروں پر رحم، ان کی بنیادی ضرورتوں اور انسان کی جواب دہی کو بہت واضح انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جانور کو باندھ کر اس کی ضرورتیں چھوڑ دینا ظلم ہے۔
- کھانا اور پانی جانور کی بنیادی ضرورت ہے۔
- اگر جانور کو نہیں سنبھال سکتے تو اسے بھوکا قید نہ رکھا جائے۔
- بے زبان مخلوق کے معاملے میں بھی انسان سے پوچھ ہو سکتی ہے۔
