صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۸ - جانور پر ظلم سے بچیں
جانور پر ظلم کی حدیث: بلی کے واقعے سے سبق
صحیح مسلم : ۶۶۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۸
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بلی کے اسی واقعے کے مضمون میں نقل ہوئی ہے۔ اس میں اصل سبق یہ ہے کہ جانور کو قید کر کے اس کی خوراک اور آزادی دونوں روک دینا سخت ظلم ہے۔ بلی ایک کمزور جانور ہے، وہ اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتی، اس لیے انسان پر اور زیادہ ذمہ داری آتی ہے کہ وہ رحم کرے۔ بلی والی حدیث ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ صرف بلی کا خیال رکھا جائے، بلکہ اس خاص واقعے کے ذریعے یہ سمجھاتی ہے کہ جس مخلوق پر ہمارا اختیار ہو، اسے تکلیف نہ دی جائے۔ جانور پالنا شوق ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری، کھانا، پانی اور رحم بھی لازم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جانور کو بھوکا پیاسا قید کرنا ظلم ہے۔
- بے زبان مخلوق کی تکلیف کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- جانور پالنے والا اس کی بنیادی ضرورتوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
- رحم نہ کرنا انسان کے لیے سخت نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
