صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۶ - بلی کو قید کرنے کی وعید
بلی کو قید کرنے کی حدیث: رحم نہ کرنے کا نقصان
صحیح مسلم : ۶۶۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۷۶
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَي بْنِ خَالِدٍ جَمِيعًا ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۷۶ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ ایک عورت کو بلی کے معاملے میں عذاب ہوا، کیونکہ اس نے اسے قید کیا اور اس کے کھانے پینے کا حق ادا نہ کیا۔ حدیث ہمیں سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ جانور کو اپنی ملکیت یا قبضے میں رکھنا ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ اگر کوئی بلی یا کوئی جانور اپنے پاس رکھتا ہے تو اسے بھوکا پیاسا چھوڑ دینا درست نہیں۔ اگر دیکھ بھال ممکن نہ ہو تو اسے اس طرح نہ باندھا جائے کہ وہ اپنی خوراک بھی تلاش نہ کر سکے۔ بلی والی حدیث لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ رحم صرف انسانوں کے لیے نہیں، جانوروں کے لیے بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جانور کو قید کرنا ہو تو اس کی خوراک اور پانی کا خیال رکھنا ہوگا۔
- بے زبان مخلوق کو تکلیف دینا معمولی بات نہیں ہے۔
- بلی کو بھوکا پیاسا رکھنا سخت مذموم عمل ہے۔
- رحم اور ذمہ داری جانور پالنے کے بنیادی تقاضے ہیں۔
