صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۳ - بیٹیوں کے ساتھ نیکی

بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی حدیث: جہنم سے آڑ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا ، فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .

عائشہ روایت:

میرے پاس ایک عورت آئی اس کی دو بیٹیاں اس کے ساتھ تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا میرے پاس کچھ نہ تھا ایک کھجور تھی وہی میں نے اس کو دے دی اس نے وہ کھجور لے کر دو ٹکڑے کیے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں بیٹیوں کو دیا اور آپ کچھ نہ کھایا، پھر اٹھی اور چلی۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے اس عورت کا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مبتلا ہو بیٹیوں میں (یعنی اس کی بیٹیاں ہوں)، پھر وہ ان کے ساتھ نیکی کرے (ان کو پالے دین کی تعلیم کرے نیک شخص سے نکاح کر دے) تو وہ قیامت کے دن اس کی آڑ ہوں گی جہنم سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت دو بیٹیوں کے ساتھ آئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس صرف ایک کھجور تھی، وہ انہوں نے اسے دے دی۔ اس عورت نے کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور دونوں بیٹیوں کو دے دیے، خود کچھ نہ کھایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیٹیوں کے معاملے میں مبتلا ہو، پھر ان کے ساتھ نیکی کرے، تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ ہوں گی۔ یہ حدیث بیٹیوں کی پرورش، ان پر شفقت، اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کی بڑی فضیلت بیان کرتی ہے۔ اس میں ماں کی قربانی بھی نظر آتی ہے اور بیٹیوں کے ساتھ احسان کی قدر بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیٹیوں کے ساتھ نیکی کرنا بہت فضیلت والا عمل ہے۔
  • ماں باپ کی قربانی اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔
  • اولاد کے ساتھ احسان میں کھانا، خیال اور محبت شامل ہیں۔
  • بیٹیوں کو بوجھ نہیں، نیکی کا موقع سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں