صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۶ - اولاد کے فوت ہونے پر صبر

تین بچوں کے فوت ہونے پر صبر کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۶

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .

سیدنا ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں اس کو جہنم کی آگ نہ لگے گی مگر قسم اتارنے کے لیے۔“ (یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو دوزخ پر سے نہ گزرے“ اس وجہ سے اس کا بھی گزر دوزخ پر سے ہو گا پر اور کسی طرح عذاب نہ ہو گا)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں لگے گی مگر قسم اتارنے کے لیے۔ ترجمے میں وضاحت دی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ گزر ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فرمان کے حوالے سے کیا گیا، مگر عذاب کی صورت نہیں۔ یہ حدیث غم زدہ والدین کے لیے تسلی کا پیغام رکھتی ہے۔ اولاد کا فوت ہونا بہت بڑا دکھ ہے، اور حدیث اس دکھ میں صبر کرنے والوں کے لیے امید بیان کرتی ہے۔ یہاں تین بچوں کا ذکر ہے؛ اس لیے ہمیں اسی لفظی حد کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ یہ روایت دکھ کے وقت اللہ سے اجر کی امید، صبر، اور آخرت کی خیر پر یقین پیدا کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اولاد کا فوت ہونا سخت آزمائش ہے، مگر صبر پر امید رکھی گئی ہے۔
  • حدیث میں تین بچوں کے فوت ہونے کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
  • غم کے وقت آخرت کی خیر کو یاد رکھنا دل کو سنبھالتا ہے۔
  • اللہ کے وعدے پر یقین مومن کو صبر کی طاقت دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں