صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۷ - بچوں کی وفات اور اجر
اولاد کی وفات پر صبر: آگ نہ لگنے کی بشارت
صحیح مسلم : ۶۶۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ ، وَبِمَعْنَى حَدِيثِهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ .
زہری نے مالک کی سند کے مطابق اس کے ہم معنی روایت کی ہے مگر سفیان کی روایت میں ہے: ”آگ نہ لگے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے ہم معنی بیان ہوئی ہے، البتہ اس میں الفاظ کا فرق ذکر کیا گیا ہے کہ آگ میں داخل نہ ہوگا مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔ حدیث کا سبق یہ ہے کہ اولاد کی وفات پر صبر کرنے والے مسلمان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑی امید ہے۔ یہ موضوع بہت حساس ہے، اس لیے بات کو حدیث کے الفاظ ہی کے اندر رکھنا چاہیے۔ یہاں تین بچوں کے فوت ہونے کا ذکر ہے اور آگ سے حفاظت کی بشارت بیان ہوئی ہے۔ والدین کے لیے یہ غم بہت بھاری ہوتا ہے، مگر ایمان انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ دنیا کا دکھ آخرت کی خیر سے بدل سکتا ہے۔ حدیث غم کو ختم نہیں کرتی، مگر صبر کرنے والے دل کو امید دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غم کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ ضروری ہے۔
- تین بچوں کی وفات پر حدیث میں خاص بشارت آئی ہے۔
- ایمان والا دکھ میں بھی آخرت کی امید رکھتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں احتیاط کے ساتھ تسلی دی جانی چاہیے۔
