صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۸ - دو یا تین بچوں کی وفات پر صبر
بچوں کی وفات پر صبر: دو بچوں کے بارے میں بھی بشارت
صحیح مسلم : ۶۶۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ : " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَوِ اثْنَيْنِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا: ”تم میں سے جس کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ اللہ کی رضا مندی کے واسطے صبر کرے تو جنت میں جائے گی۔“ ایک عورت بولی: یا رسول اللہ! اگر دو بچے مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہی سہی۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا کہ تم میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اللہ کی رضا کے لیے صبر کرے تو وہ جنت میں جائے گی۔ ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دو بچے فوت ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ہی سہی۔ اس حدیث میں صبر کے ساتھ احتساب، یعنی اللہ سے اجر کی امید، واضح طور پر موجود ہے۔ اولاد کی وفات ماں کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے، مگر حدیث اس صدمے میں ایمان والی امید دیتی ہے۔ یہاں تین بچوں کا ذکر آیا، پھر سوال کے جواب میں دو کا بھی ذکر ہوا۔ اس لیے اس روایت کا پیغام یہ ہے کہ دکھ میں اللہ کی رضا پر صبر کرنے والوں کے لیے بڑی بشارت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کی وفات پر اللہ کی رضا کے لیے صبر بڑی نیکی ہے۔
- حدیث میں تین بچوں کے بعد دو بچوں کے بارے میں بھی جواب آیا۔
- غم میں اجر کی امید دل کو سہارا دیتی ہے۔
- سوال پوچھ کر دین سمجھنا صحابیات کا خوبصورت عمل تھا۔
